قرآن


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ

مومنو! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اس کے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو


سورۃالحجرات: ۱ اور ۲


حدیث


وَعَضُّوا بِهَا تَمَسَّكُوا الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ الْخُلَفَاءِ وَسُنَّةِ بِسُنَّتِي علَيْكُمْ (صلىالله عليه وسلم) قال عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَة

میری سنت اورمیرے بعد ہدایت یافتہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت لازم پکڑو ،اور اس کو مضبوطی اور سختی سے تھام لو ، اور دین میں نئے نئے ایجاد کردہ کاموں سے بچو ۔کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

.


مسند احمد: ج ۲ ص ۸۲۷ ، ابو داود: ج ۲ ص ۲۷۹ ، ترمذی: ج ۲ ص ۹۲ ، ابن ماجہ: ص ۵


زائرین

حیدرآباد میں آج کی نماز کے اوقات

صلاۃ وقت
فجر
طلوع آفتاب
ظہر
عصر
مغرب
عشاء

دیگر مفید ویب سائٹس

کاپی رائٹ © 2016 جمعیت اہل حدیث حیدرآباد اور سکندراباد, جملہ حقوق محفوظ ہیں